یہ ٹیسٹ کیا ہے؟
ایکسرے میں شعاعوں کی بہت کم اور محفوظ مقدار سے ہڈیوں، سینے اور بعض نرم حصوں کی تصویر بنتی ہے۔
ڈیجیٹل نظام میں تصویر چند سیکنڈ میں اسکرین پر آ جاتی ہے، اس لیے ریڈیوگرافر آپ کے جانے سے پہلے ہی دیکھ لیتا ہے کہ تصویر صاف ہے۔
ڈاکٹر یہ ٹیسٹ کیوں تجویز کرتے ہیں؟
- ہڈی ٹوٹنے، موچ یا جوڑ کی چوٹ کا شبہ
- کھانسی، سینے کا انفیکشن یا سانس پھولنا
- گردن اور کمر کا درد
- سائنس کے مسائل
- گردے کی پتھری یا پیٹ درد (KUB ایکسرے)
تیاری کیسے کریں
- زیادہ تر ایکسرے کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہیں۔
- ڈاکٹر کی پرچی اور پرانے ایکسرے یا رپورٹس ساتھ لائیں۔
- جس حصے کا ایکسرے ہونا ہے وہاں سے زیور اور دھات کی چیزیں اتار دیں۔
- اگر آپ حاملہ ہیں یا حمل کا امکان ہے تو ایکسرے سے پہلے عملے کو ضرور بتائیں۔
یہ عمومی معلومات ہیں۔ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔
ٹیسٹ کے دوران کیا ہوتا ہے
ریڈیوگرافر آپ کو ایکسرے اسٹینڈ کے سامنے یا ٹیبل پر لٹا کر ساکت رہنے کو کہے گا۔ سینے کے ایکسرے میں چند لمحے سانس روکنا ہوتا ہے۔
ہر تصویر ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں بنتی ہے۔ اکثر دو رخ سے تصویر لی جاتی ہے۔
عام سوالات
کیا اپائنٹمنٹ ضروری ہے؟
نہیں، اوقاتِ کار میں بغیر اپائنٹمنٹ تشریف لائیں۔ بیریم یا آئی وی پی جیسے ٹیسٹ کے لیے پہلے واٹس ایپ کریں تاکہ ہم تیاری کا طریقہ بتا سکیں۔
کیا ایکسرے کی شعاعیں محفوظ ہیں؟
ایک ایکسرے میں شعاعوں کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ صرف وہی حصہ اسکین کیا جاتا ہے جس کا ڈاکٹر نے کہا ہو۔
رپورٹ اور تصاویر کیسے ملیں گی؟
تحریری رپورٹ استقبالیہ سے حاصل کریں، ساتھ میں ایکسرے فلم یا کاغذ پر پرنٹ شدہ تصاویر ملتی ہیں۔